یاد بھی کیا عجیب چیز ہے
کبھی سنگدل ، کہ آنکھوں سے گرتی برسات کو دیکھ کر مسکراے جاتی ہے
کبھی اتنی پیاری کہ اسکا میٹھا میٹھا احساس وجود کو سرشار کیے جاتا ہے
''' مجھے تم یاد آتے ہو ''
کیا اتنا کہ دینے سے وہ سب بیان ہو جاتا ہے جو شدت آپ محسوس کر رہے ہوتے ہو
.........نہیں، یاد کو کچھ بیان نہیں کر سکتا
میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا ہے .ہر صبح تمہیں سوچتے اور ہر رات تمہیں قریب محسوس کرتے گزری ہے
وقت ، جگہ ، موسم ، موقع ، غم ، خوشی ، ہر چیز کا لحاظ ، خیال کے بغیر تم بہت یاد آتے ہو
کبھی سنگدل ، کہ آنکھوں سے گرتی برسات کو دیکھ کر مسکراے جاتی ہے
کبھی اتنی پیاری کہ اسکا میٹھا میٹھا احساس وجود کو سرشار کیے جاتا ہے
''' مجھے تم یاد آتے ہو ''
کیا اتنا کہ دینے سے وہ سب بیان ہو جاتا ہے جو شدت آپ محسوس کر رہے ہوتے ہو
.........نہیں، یاد کو کچھ بیان نہیں کر سکتا
میں نے بھی تمہیں بہت یاد کیا ہے .ہر صبح تمہیں سوچتے اور ہر رات تمہیں قریب محسوس کرتے گزری ہے
وقت ، جگہ ، موسم ، موقع ، غم ، خوشی ، ہر چیز کا لحاظ ، خیال کے بغیر تم بہت یاد آتے ہو