اے وعدہ شکن ،خواب دکھانا ہی نہیں تھا
کیوں پیار کیا تھا جو نبھانا ہی نہیں تھا
اس طرح میرے ہاتھ سے دامن نہ چھڑاؤ
دل توڑ کے جانا تھا ، تو آنا ہی نہیں تھا
الله ! نہ ملنے کے بہانے تھے ہزاروں
ملنے کے لئے کوئی بہانہ ہی نہیں تھا
دیکھو میری سر پھوڑ کے مرنے کی ادا بھی
ورنہ مجھے دیوانہ بنانا ہی نہیں تھا
رونے کے لئے صرف محبت ہی نہیں تھی
غم اور بھی تھے دل کا فسانہ ہی نہیں تھا
نہ ہم سہی کہتے نہ بنی دل کی کہانی
یا گوش بر آواز زمانہ ہی نہیں تھا
قیصر کوئی آیا تھا میری بخیہ گری کو
دیکھا تو گریبان کا ٹھکانہ ہی نہیں تھا