Saturday, 29 September 2012

Mujh ko pyara hai Wo ....

جس نے جادو سے پتھر بنا کے مجھے 
مجھ سے احساس کی ہر گھڑی چھین لی
شہر کے وسط میں ، درد کی بھیڑ  میں 
جس نے اندھا کیا اور چھڑی  چھین لی
مجھ کو پیارا ہے وہ  


Friday, 21 September 2012

Mujhe Dekhna , Mujhe Sochna ...


کبھی اپنے قرضہ جاں کا، کبھی زخم ہائے گداز کا
تمہیں دینا کوئی حساب ہو، مجھے دیکھنا مجھے سوچنا



یوں خلا میں گھورتے گھورتے کوئی لمحہ ایسا ٹھہر پڑے
کہ سوال ہو نہ جواب ہو، مجھے دیکھنا مجھے سوچنا

Wednesday, 12 September 2012

Mujhe aaj tak nahi bhooltay ....


مجھے آج تک نہیں بھولتے تیری چاہتوں کے وہ ذایقے

کہ جو تو ملا تو لگا مجھے سرِ عرش میری دعا گئی


کوئی دشت دشت وجود تھا مگر ابر بن کے برس گیا
کہیں سبز پیڑ کی چھاوں بھی میری تشنگی کو بڑھا گئی


میرے ہاتھ پر ابھی نقش ہیں تیری اُنگلیوں کے نشان تک
تو نے جب چھوا تو لگامجھے کوئی آگ مجھ میں سما گئی


تیرا آندھیوں سا مزاج تھا تو بضد تھامجھکو بجھائے گا
میں چراغ تھی میری روشنی تیرے بام و در کو سجا گئی

Wo sitam na dhaaye tu kia karay ......


وہ سِتم نہ ڈھاۓ تو کیا کرے، اُسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا!
تُو اُسى کو پیار کرے ہے کیوں، یہ کلیمؔ تُجھ کو ہُوا ہے کیا؟




تُجھے سنگ دِل یہ پَتا ہے کیا کہ دُکھے دِلوں کی صدا ہے کیا!
کبھی چوٹ تُو نے بھی کھائی ہے؟ کبھی تیرا دِل بھی دُکھا ہے کیا؟



یہ جو زخم زخم ہیں دِل، جِگر -- یہ کبھی نہ جائیں گے بے اثر
تُجھے ایک دِن، بُتِ بے خبر، یہ پتا چلے گا خُدا ہے کیا!

Shab e Hijraan ki azeeyat ki khabar ....

شب ہجراں کی ازیت کی خبر کس کو ہے
میری گمنام محبت کی خبر کس کو ہے

کس کو احساس میری شدت جزبات کا ہے
میری حالت میری وحشت کی خبر کسکو ہے

کون ویران مکانوں کی خبر رکھتا ہے
میری اجڑی ہوئی قسمت کی خبر کس کو ہے

میں نے چپ چاپ محبت کے ستم جھیلے ہیں
میری اس درجہ شرافت کی خبر کس کو ہے

کون آۓ گا اۓ دل اب تجھے تسلی دینے
تیری اس اداس طبیعت کی خبر کسکو ہے

Thursday, 6 September 2012

Aay waada shikan ..!!

 
اے وعدہ شکن ،خواب دکھانا ہی نہیں تھا
کیوں پیار کیا تھا جو نبھانا ہی نہیں تھا 
 
اس طرح میرے ہاتھ سے دامن نہ چھڑاؤ 
دل توڑ کے جانا تھا ، تو آنا ہی نہیں تھا 
 
الله ! نہ ملنے کے بہانے تھے ہزاروں 
ملنے کے لئے کوئی بہانہ ہی نہیں تھا 
 
دیکھو میری سر پھوڑ کے مرنے کی ادا بھی
ورنہ مجھے دیوانہ بنانا ہی نہیں تھا 
 
رونے کے لئے صرف محبت ہی نہیں تھی 
غم اور بھی تھے دل کا فسانہ ہی نہیں تھا 
 
نہ ہم سہی کہتے نہ بنی دل کی کہانی 
یا گوش بر آواز زمانہ ہی نہیں تھا
 
قیصر کوئی آیا تھا میری بخیہ گری کو 
دیکھا تو گریبان کا ٹھکانہ ہی نہیں تھا