Tuesday, 15 June 2010

Koi Roshni Mera Khuwab Kar !!

تو جو کب سے دل میں ہے جا گزیں
میری دھڑکنوں کا حساب کر
تو جو کب سے بیٹھا ہے آنکھ میں
کوئی روشنی میرا خواب کر

بڑی بے اماں ہے زندگی
اسے بن کے کوئی پناہ مل
کوئی چاند رکھ میری شام پر
میری شب کو مہکا گلاب کر

کوئی بد گمان سا وقت ہے
کوئی بد مزاج سی دھوپ ہے
کسی سایہ دار سے لفظ کو
میرے جلتے دل کا حجاب کر


Monday, 7 June 2010

Main Yeh Soch Kar



میں یہ سوچ کر اسکے در سے اٹھا تھا
کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو

ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامن
کہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو

قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے
کہ آواز دے کے بلا لے گی مجھ کو

مگر اس نے روکا ، نہ اس نے بلایا
نہ دامن ہی پکڑا ، نہ مجھ کو بٹھایا

نہ آواز ہی دی ، نہ واپس بلایا
میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا

یہاں تک کے اس سے جدا ہو گیا میں