Wednesday, 23 March 2011

Bahut dinno se ...!

بہت دنوں سے
سراب لمحوں کی وحشتوں میں
اتر رہی ہوں
یہ سوچتی ہوں
یہ کیا ہوا ہے ؟
ستم رسیدہ گمان کی چوکھٹ پہ کوئی جگنو
نہ کوئی تارا
طویل راستوں کی دھول دیکھو
مہیب شاموں کا رتجگا ہے
مقدروں کا معاملہ بھی عجیب تر ہے
اے شام ہجراں
کبھی ملو تو
یہ سوچ لینا ، میں جسم و جان کے
شکستہ رشتوں میں بٹ چکی ہوں
بہت دنوں سے ہتھیلیوں پہ اگی
لکیروں کے جنگلوں میں
بھٹک رہی ہوں

Sunday, 13 March 2011

Tum se kuch nahi kehna ...

ہم نے سوچ رکھا ہے
...تم سے کچھ نہیں کہنا
چاہے دل کی ہر خواہش زندگی کی آنکھوں سے
اشک بن کے بہ جائے
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
...تم سے کچھ نہیں کہنا

کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
....تم سے کچھ نہیں کہنا

گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اسطرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں ، کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جسطرح تمہیں سچ کے
لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
!!ہم نے سوچ رکھا ہے تم سے کچھ نہیں کہنا

Janan .... !!



میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے

جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کمان ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں

میرا ہر خواب میرے سچ کی گواہی دے گا
وسعت دید نے تجھ سے تیری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے

تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ بے خبر طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسم ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے

تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کا جہاں
دیکھ سکتا ہی نہیں کوئی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تیری دید کا منظر جاناں

مجھ سے مانگے گا تیرے عہد محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں میرے دل کے برابر تیرا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

Yaad..

میرے ماہ و سال کے بیچ میں کوئی لمحہ ایسا گیا نہیں
تیرا نام میں نے لیا نہیں ، تجھے یاد میں نے کیا نہیں

Mere Humsafar ...

میرے ہمسفر کسی روز تو
میرے پاس آ ، میرے رو برو
کسی روز سن میری گفتگو
میری چاہتوں میں بسے ہوئے
میرے آنسوؤں سے بھرے ہوئے
میری شب کے لمحے شمار کر
میری زندگی نہ عذاب کر

مجھے لے کے تو کہیں دور چل
ذرا ہاتھ میرا تھام کر
میرے ہمسفر کسی روز تو
میرے پاس آ ، میرے روبرو

میری خواہشوں کو امید دے
میری زندگی کو نوید دے