بہت دنوں سے
سراب لمحوں کی وحشتوں میں
اتر رہی ہوں
یہ سوچتی ہوں
یہ کیا ہوا ہے ؟
ستم رسیدہ گمان کی چوکھٹ پہ کوئی جگنو
نہ کوئی تارا
طویل راستوں کی دھول دیکھو
مہیب شاموں کا رتجگا ہے
مقدروں کا معاملہ بھی عجیب تر ہے
اے شام ہجراں
کبھی ملو تو
یہ سوچ لینا ، میں جسم و جان کے
شکستہ رشتوں میں بٹ چکی ہوں
بہت دنوں سے ہتھیلیوں پہ اگی
لکیروں کے جنگلوں میں
بھٹک رہی ہوں
سراب لمحوں کی وحشتوں میں
اتر رہی ہوں
یہ سوچتی ہوں
یہ کیا ہوا ہے ؟
ستم رسیدہ گمان کی چوکھٹ پہ کوئی جگنو
نہ کوئی تارا
طویل راستوں کی دھول دیکھو
مہیب شاموں کا رتجگا ہے
مقدروں کا معاملہ بھی عجیب تر ہے
اے شام ہجراں
کبھی ملو تو
یہ سوچ لینا ، میں جسم و جان کے
شکستہ رشتوں میں بٹ چکی ہوں
بہت دنوں سے ہتھیلیوں پہ اگی
لکیروں کے جنگلوں میں
بھٹک رہی ہوں