Tuesday, 24 July 2012

Keh ab hum thak gaey janan .....


ستاروں سے کہو
اب رات بھر ہم ان سے باتیں کر نہیں سکتے
کہ ہم اب تھک گئے جاناں!
ہمیں جی بھر کے سونا ہے
کسی کا راستہ تکنے کا یارا بھی نہیں ہم کو
...
مسافر آگیا تو ٹھیک ہے لیکن،
نہیں آتا تو نہ آئے
ان آنکھوں میں ذرا بھی روشنی باقی نہیں شاید
وگرنہ تیرگی ہم کو یوں گھیرے میں نہیں لیتی
مگر یہ سب،
ازل سے لکھ دیا تھا لکھنے والے نے
ستاروں سے کہو، بہتر ہے ہم کو بھول ہی جائیں
ہمیں آرام کرنا ہے
ضروری کام کرنا ہے

Sunday, 15 July 2012

Intakhaab ..

تم کو بھول جانا ہے ؟
تم کو یاد رکھنا ہے؟
 دکھ تو ایک جیسا ہے 
......انتخاب کرنا ہے  

Thursday, 12 July 2012

Mere dard ki tujhe kia khabar ....






میرے چارہ گر ، میرے چارہ  گر 
میرے درد کی تجھے کیا خبر ؟
تو میرے سفر کا شریک ہے 
 ! ! ! . . . .نہیں ، ہم سفر 

وہ  جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ 
کئی موسموں میں بدل گیا 
اسے  ناپتے ، اسے کاٹتے 
میرا سارا وقت نکل گیا 
نہیں جس پہ کوئی نشان پا 
میرے سامنے ہے وہ رہ گزر 
 ! !میرے چارہ گر  

?

I always wonder why 
birds stay 
in the same place 
when they can fly 
anywhere on the earth.
Then i ask myself
the same question.