Tuesday, 18 August 2009

..................تمھارے بن ادھورا میرا یہ جیون

!!سنو
سنو تم لوٹ آؤ ناں
جہاں تم ہو وہ دنیا کب تمہاری ہے ؟
کہ سورج ڈھل گیا ہے اور حسین اک شام اتری ہے
وو دیکھو چاند نکلا ہے ، ستارے جگمگاتے ہیں
ہماری منتظر آنکھیں ، دعائیں مانگتی آنکھیں
تمہیں ہی سوچتی آنکھیں تمہیں ہی ڈھونڈتی آنکھیں
تمہیں واپس بلاتی ہیں
یہ دل جب بھی دھڑکتا ہے
تمہارا نام لیتا ہے
یہ آنسو جب بھی بہتے ہیں ،
تمھارے دکھ میں بہتے ہیں

یہ بارش جب بھی ہوتی ہے تمہیں ہی یاد کرتی ہے
خوشی کوئی جو آتی ہے .....تمھارے بن ادھوری ہے

میں نے کس کس طرح تمہیں اپنے اس پاس سوچ رکھا ہے ،تمھیں کیا معلوم ؟ میرےارد گرد ایک ایک ذرے میں تم ہو .
یہ سورج کی کرنیں تمہاری آنکھیں ہی تو ہیں ، یہ ہوا کے جھونکے تمہاری اٹھکیلیاں کرتی انگلیاں ہی ہیں ناں
یہ سمندر تمہاری آنکھوں جیسا تو یہ رستے تمہاری بانہوں جسے ہی تو ہیں
..........یہ سامنے کھڑا پہاڑ ہماری محبت جیسا اٹل
ہر جانب تمہارا ہی کوئی روپ میرے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے میں کیسے تم سے دور جاؤں ، کیسے تمہیں بھلاؤں .......؟؟؟

No comments:

Post a Comment