اپنی تنہائیوں سے پوچھا ہے
شب ہجراں سے بات کر لی ہے
میرے اندر کی سہمی خاموشی
میرے باہر کا ہنستا چہرہ بھی
رات کے سنسناتے لمحے بھی
دن کا ڈستا ہوا اجالا بھی
ضبط کا ٹوٹتا یہ بندھن بھی
صبر کا چھوٹتا یہ دامن بھی
اس کی یادیں بھی کچھ اشاروں میں
مجھ کو مجبور کر رہے ہیں سب
آؤ اس کے پاس چلتے ہیں
اس کو کہتے ہیں کچھ دوا کر دے
اپنی فطرت کو چھوڑ کر اک پل
کوئی وعدہ تو وہ وفا کر دے
ان کی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا
آخری فیصلہ تو دل کا ہے
دل یہ کہتا ہے.... اس سے ملنے سے
اپنی تنہائیاں ہی اچھی ہیں
اب اکیلے میں لگ گیا ہے دل
اس سے ملنے ہمیں نہیں جانا
اس کی باتیں اداس کر دیں گی
شب ہجراں سے بات کر لی ہے
میرے اندر کی سہمی خاموشی
میرے باہر کا ہنستا چہرہ بھی
رات کے سنسناتے لمحے بھی
دن کا ڈستا ہوا اجالا بھی
ضبط کا ٹوٹتا یہ بندھن بھی
صبر کا چھوٹتا یہ دامن بھی
اس کی یادیں بھی کچھ اشاروں میں
مجھ کو مجبور کر رہے ہیں سب
آؤ اس کے پاس چلتے ہیں
اس کو کہتے ہیں کچھ دوا کر دے
اپنی فطرت کو چھوڑ کر اک پل
کوئی وعدہ تو وہ وفا کر دے
ان کی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا
آخری فیصلہ تو دل کا ہے
دل یہ کہتا ہے.... اس سے ملنے سے
اپنی تنہائیاں ہی اچھی ہیں
اب اکیلے میں لگ گیا ہے دل
اس سے ملنے ہمیں نہیں جانا
اس کی باتیں اداس کر دیں گی
lovely..
ReplyDelete