Wednesday, 20 October 2010

Libaas !

تجھ سے نہیں رہا ہے کوئی نامہ و پیام
عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں

تجھ کو یقین آئے نہ آئے ، یہ اور بات
میں تجھ سے دور رہ کہ بھی تیرے ہی پاس ہوں

ممکن کہاں ہے تجھ سے جدائی متاعِ جاں
تو ہے میرا لباس ، میں تیرا لباس ہوں


No comments:

Post a Comment