تجھ سے نہیں رہا ہے کوئی نامہ و پیام
عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں
تجھ کو یقین آئے نہ آئے ، یہ اور بات
میں تجھ سے دور رہ کہ بھی تیرے ہی پاس ہوں
ممکن کہاں ہے تجھ سے جدائی متاعِ جاں
تو ہے میرا لباس ، میں تیرا لباس ہوں
عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں
تجھ کو یقین آئے نہ آئے ، یہ اور بات
میں تجھ سے دور رہ کہ بھی تیرے ہی پاس ہوں
ممکن کہاں ہے تجھ سے جدائی متاعِ جاں
تو ہے میرا لباس ، میں تیرا لباس ہوں
No comments:
Post a Comment