Friday, 7 January 2011

Faslay..!!

خواب اور خواہش میں
.نیند بھر کی دوری ہے
وصل اور جدائی میں
.آنکھ بھر کا وقفہ ہے
ہجر کے اندھیروں میں
.چاند بھر تمنا ہے
ذھن اور دل میں بھی
.سوچ بھر جدائی ہے
..پھر بھی ایسا ہوتا ہے
فاصلے مٹانے میں
عمر بیت جاتی ہے
..فاصلے نہیں مٹتے


Intazaar

ہوا کی خنکیوں میں اب بھی تیری نرم باتیں
آہٹوں کا جال بنتی ہیں
سماعت اب بھی تیری ہنسی کا شور سنتی ہے
خیال اب بھی تمہاری انگلیوں سے
میرے دل کے آنسو پونچھتا ہے
!!نگاہیں
زندگی کے کینوس پر جا بجا
تیری رفاقت کی ضرورت پینٹ کرتی ہے
محبت کی سلگتی رہ گزر کے کنارے پر
..کوئی
اب بھی شدت سے تیرا منتظر ہے


Mousam

مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ہوائیں شام ہجراں مجھے راس ہیں تو کیوں ہیں ؟
میں اجڑ کے بھی ہوں تیری ، تو بچھڑ کے بھی ہے میرا
یہ یقین ہے تو کیوں ہے ، یہ قیاس ہیں تو کیوں ہیں ؟