Friday, 7 January 2011

Intazaar

ہوا کی خنکیوں میں اب بھی تیری نرم باتیں
آہٹوں کا جال بنتی ہیں
سماعت اب بھی تیری ہنسی کا شور سنتی ہے
خیال اب بھی تمہاری انگلیوں سے
میرے دل کے آنسو پونچھتا ہے
!!نگاہیں
زندگی کے کینوس پر جا بجا
تیری رفاقت کی ضرورت پینٹ کرتی ہے
محبت کی سلگتی رہ گزر کے کنارے پر
..کوئی
اب بھی شدت سے تیرا منتظر ہے


No comments:

Post a Comment