ہوا کی خنکیوں میں اب بھی تیری نرم باتیں
آہٹوں کا جال بنتی ہیں
سماعت اب بھی تیری ہنسی کا شور سنتی ہے
خیال اب بھی تمہاری انگلیوں سے
میرے دل کے آنسو پونچھتا ہے
!!نگاہیں
آہٹوں کا جال بنتی ہیں
سماعت اب بھی تیری ہنسی کا شور سنتی ہے
خیال اب بھی تمہاری انگلیوں سے
میرے دل کے آنسو پونچھتا ہے
!!نگاہیں
زندگی کے کینوس پر جا بجا
تیری رفاقت کی ضرورت پینٹ کرتی ہے
محبت کی سلگتی رہ گزر کے کنارے پر
..کوئی
اب بھی شدت سے تیرا منتظر ہے
تیری رفاقت کی ضرورت پینٹ کرتی ہے
محبت کی سلگتی رہ گزر کے کنارے پر
..کوئی
اب بھی شدت سے تیرا منتظر ہے
No comments:
Post a Comment