ہم نے سوچ رکھا ہے
...تم سے کچھ نہیں کہنا
چاہے دل کی ہر خواہش زندگی کی آنکھوں سے
اشک بن کے بہ جائے
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
...تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
....تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اسطرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں ، کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جسطرح تمہیں سچ کے
لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
!!ہم نے سوچ رکھا ہے تم سے کچھ نہیں کہنا
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
...تم سے کچھ نہیں کہنا
کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
....تم سے کچھ نہیں کہنا
گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اسطرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں ، کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جسطرح تمہیں سچ کے
لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
!!ہم نے سوچ رکھا ہے تم سے کچھ نہیں کہنا
kamaal hay yaar....jab aati ho cha jati ho....:)...ati jaati raha karo na..:)
ReplyDeleteohhh Thanks :) :)
ReplyDeleteab koshish karon gi :)
I second Rida's statement. Amazing poem.
ReplyDelete