خاموشی شور کے منہ پر
طمانچہ مار کر
میرے اندر
اپنا غصّہ تھوک جاتی ہے
اور تنہائی
میلے سے بھاگ کر
میری انگلی تھام لیتی ہے
اور لیجاتی ہے ان راستوں پر
جہاں پیڑ
ہجر کے موسم میں
زندگی اور موت کا بٹوارہ کرنے میں
مصروف رہتے ہیں
میں نے ہمیشہ
درختوں سے لا تعلقی کا اظہار کرنے والے
سوکھے پتوں کی کڑواہٹ
اپنے اندر محسوس کی ہے
میں زندگی سے ٹوٹ کر الگ ہونا چاہتی ہوں
مگر جڑیں
میری شہ رگ کا دامن نہیں چھوڑتیں