Thursday, 26 April 2012

Azaab.


ایس توں وڈا اک بندے دا
ہے کوئی ہور عذاب
اک اک کر کے انے ہو گئے
جس دے سارے خواب 

Aap !!


گزشتہ شام میں نے
زندگی کو خوب جیا
عجب صورت حال رہی
آپ اچانک یاد آئے
بڑی مدّتوں کے بعد
بڑی شدّتوں کے ساتھ 

Leave Me Alone ..


خاموشی شور کے منہ پر
طمانچہ مار کر
میرے اندر
اپنا غصّہ تھوک جاتی ہے

اور تنہائی
میلے سے بھاگ کر
میری انگلی تھام لیتی ہے
اور لیجاتی ہے ان راستوں پر
جہاں پیڑ
ہجر کے موسم میں
زندگی اور موت کا بٹوارہ کرنے میں
مصروف رہتے ہیں

میں نے ہمیشہ
درختوں سے لا تعلقی کا اظہار کرنے والے
سوکھے پتوں کی کڑواہٹ
اپنے اندر محسوس کی ہے
میں زندگی سے ٹوٹ کر الگ ہونا چاہتی ہوں
مگر جڑیں
میری شہ رگ کا دامن نہیں چھوڑتیں

Thursday, 5 April 2012

Yaar dil !!!



یہ قیدِ ہجر، قحطِ مسیحا، نزار دل
گر تو پکارتا ہے اُسے تو پکار دل

آنکھیں سلگ رہی ہیں تپش سے سراب کی

سینے میں چبھ رہا ہے ازل سے فِگار دل

اُس سانس ٹوٹنے کے سمے بے خبر تھے ہم

کیوں نیند میں سِسکا نہیں تُو بے قرار دل

اک ساتھ تھا کہ جس میں کئ جنم جی لئے

اک ہجر میں گماں ہوا تڑپے ہزار دل

اس تشنگی کے حسن وسِحر میں خمار میں

ہم بار بار ڈوبیں گے اور بار بار دل

تنہائ کے قدیم شبستاں میں اس گھڑی

ہم-زاد کی تلاش ہے کچھ بول یار دل