Thursday, 5 April 2012

Yaar dil !!!



یہ قیدِ ہجر، قحطِ مسیحا، نزار دل
گر تو پکارتا ہے اُسے تو پکار دل

آنکھیں سلگ رہی ہیں تپش سے سراب کی

سینے میں چبھ رہا ہے ازل سے فِگار دل

اُس سانس ٹوٹنے کے سمے بے خبر تھے ہم

کیوں نیند میں سِسکا نہیں تُو بے قرار دل

اک ساتھ تھا کہ جس میں کئ جنم جی لئے

اک ہجر میں گماں ہوا تڑپے ہزار دل

اس تشنگی کے حسن وسِحر میں خمار میں

ہم بار بار ڈوبیں گے اور بار بار دل

تنہائ کے قدیم شبستاں میں اس گھڑی

ہم-زاد کی تلاش ہے کچھ بول یار دل