Thursday, 10 September 2009

Mere Ajnabi !!!

میرے اجنبی ، میرے بے خبر
میرے ہاتھ میں کہاں یہ ہنر
کہ میں بیچ راہ سے واپسی کا
خیال دل میں بھی لا سکوں

میرے چارہ ساز و رفیق جان
میرے اجنبی ، میرے آشنا
کوئی ایسا ویسا گمان نہ کر

مجھے تیرے ساتھ سے بڑھ کے تو
کسی ہمسفر کی طلب نہیں
کہ جو ہاتھ میں تیرا ہاتھ ہے
تو سفر ہی میری حیات ہے
یہ سفر تھمے گا
تو میرا نام و نشان کہاں
میرے ہمسفر
میں تیرے بنا
کہیں موت و زیست کے درمیان
نہ زمین میری نہ آسمان

میرے بدگمان میرے مہربان
میرے راہ بر
میری التجاؤں پہ دھیان کر
میری زندگی کے سفر کو دل سے دوام دے
میری منزلوں کو دھواں نہ کر
تیرا ساتھ ہے میری زندگی
مجھے اس طرح بے امان نہ کر

No comments:

Post a Comment