ٹوٹی ہے میری نیند ، مگر تم کو اس سے کیا
بجتے رہیں ہواؤں سے در ، تم کو اس سے کیا
اوروں کا ہاتھ تھامو ، انھیں راستہ دکھاؤ
میں بھول جاؤں اپنا ہی گھر ، تم کو اس سے کیا
لے جائیں مجھے مال غنیمت کے ساتھ عدو
تم نے تو ڈال دی ہے سپر ، تم کو اس سے کیا
تم نے تو تھک کے دشت میں خیمے لگا لیے
تنہا کٹے کسی کا سفر تم کو اس سے کیا
No comments:
Post a Comment