Tuesday, 20 July 2010

Mein wapis laut jati hon ...

میں واپس لوٹ جاتی ہوں
!مگر پھر اے میرے ہمدم
مجھے اتنا تو بتلا دو
کہ واپس کس طرف جاؤں؟
کہاں سے ساتھ لائے تھے؟
مجھے اتنا تو سمجھا دو
اگر ایسا نہیں ممکن
تو مجھ کو اسطرح توڑو
کہ میں یکسر بکھر جاؤں
بھٹکنے سے تو بہتر ہے
تمھارے پاس مر جاؤں


Saturday, 3 July 2010

Is Se Pehlay Keh ....!!

اس سے پہلے کہ دشت امکاں میں 
وصل جاں کی آرزو نہ رہے 
 اس سے پہلے کہ بار غم سے کہیں 
تجھ کو پانے کی جستجو نہ رہے 
اس سے پہلے کہ دشت خواہش میں 
فرش افسردگی بچھے سر راہ 
لوٹ آؤ کہ منتظر ہے نگاہ 
اس سے پہلے کہ لوح قسمت پر 
باب الفت تمام ہو جائے 
اس سے پہلے کہ شام ہو جائے 

Kuch Barg e Zard Hi Reh Gaey ....

!!میرے بےخبر
میرے روز و شب کے نصیب میں
تیرے بعد درد ہی رہ گئے
میری چاہتوں کی امین جھیل کے پانیوں پہ
کنول کا ایک بھی پھول کب سے کھلا نہیں
کسی راج ہنس نے
چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ کی
کسی دور دیس سے پنچھیوں کا
محبتوں بھرا قافلہ نہ اتر سکا
کئی ابر لمحے گزر گئے
میری پیاس پیاس ہی رہ گئی
کسی اڑتے پنچھی کے گیت میں
تیری واپسی کی نوید ہو
میری آس آس ہی رہ گئی
تیری قربتوں کی تمازتیں میں نہ چھو سکی
میرے ہاتھ سرد ہی رہ گئے
چلی ایسی ہجر کی آندھیاں
میری شاخ جان سے
تمھارے لمس کے پھول
سارے ہی جھڑ گئے
کئی موسموں سے یہ حال ہے
میری شاخ جاں نہ ہری ہوئی
اور پھول چننے کی چاہ میں
میرے ہاتھ میں تیری یاد کے
کچھ برگ زرد ہی رہ گئے