Saturday, 3 July 2010

Kuch Barg e Zard Hi Reh Gaey ....

!!میرے بےخبر
میرے روز و شب کے نصیب میں
تیرے بعد درد ہی رہ گئے
میری چاہتوں کی امین جھیل کے پانیوں پہ
کنول کا ایک بھی پھول کب سے کھلا نہیں
کسی راج ہنس نے
چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ کی
کسی دور دیس سے پنچھیوں کا
محبتوں بھرا قافلہ نہ اتر سکا
کئی ابر لمحے گزر گئے
میری پیاس پیاس ہی رہ گئی
کسی اڑتے پنچھی کے گیت میں
تیری واپسی کی نوید ہو
میری آس آس ہی رہ گئی
تیری قربتوں کی تمازتیں میں نہ چھو سکی
میرے ہاتھ سرد ہی رہ گئے
چلی ایسی ہجر کی آندھیاں
میری شاخ جان سے
تمھارے لمس کے پھول
سارے ہی جھڑ گئے
کئی موسموں سے یہ حال ہے
میری شاخ جاں نہ ہری ہوئی
اور پھول چننے کی چاہ میں
میرے ہاتھ میں تیری یاد کے
کچھ برگ زرد ہی رہ گئے


No comments:

Post a Comment