Saturday, 3 July 2010

Is Se Pehlay Keh ....!!

اس سے پہلے کہ دشت امکاں میں 
وصل جاں کی آرزو نہ رہے 
 اس سے پہلے کہ بار غم سے کہیں 
تجھ کو پانے کی جستجو نہ رہے 
اس سے پہلے کہ دشت خواہش میں 
فرش افسردگی بچھے سر راہ 
لوٹ آؤ کہ منتظر ہے نگاہ 
اس سے پہلے کہ لوح قسمت پر 
باب الفت تمام ہو جائے 
اس سے پہلے کہ شام ہو جائے 

No comments:

Post a Comment