Monday, 30 August 2010

?

کیا محبت کے وعدے
کیا وفا کے ارادے
ریت کی ہیں دیواریں
جو بھی چاہے گرا دے

Saturday, 21 August 2010

Kia Tamasha Ho ????

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج بھی ہم تیری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آیئں تو کیا تماشا ہو


Thursday, 19 August 2010

اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے

خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اجڑ گئیں
تنہائیوں کی دھوپ نے چہرے جلا دیے
لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی
آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے
آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اک بار جو گئے

وہ دن، وہ وقت ، وہ رت ، وہ موسم ، وہ سرکشی
اے گردش حیات ، اے رفتار ماہ و سال
کیا جمع اس زمین پہ نہیں ہوں گے پھر کبھی
جو ہمسفر فراق کی دلدل میں کھو گئے
پتے جو گر کے پیڑ سے رستوں کے ہو گئے

کیا پھر کبھی نہ لوٹ کے آئے گی وہ بہار
کیا پھر کبھی نہ آنکھ میں اترے گی وہ دھنک

لمحے زمان ہجر کے پھیلے کچھ اس طرح
دیگ رواں دشت کی تمثال ہو گئے
اس دشت پر سراب میں بھٹکے ہیں اس قدر
نقش قدم تھے جتنے بھی پا مال ہو گئے
اب تو کہیں پہ ختم ہو رستہ گمان کا
شیشے میں دل کے سارے یقین بال ہو گئے
جس واقعے نے آنکھ سے چھینی تھی میری نیند
اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے


Ay Ajnabi .......... !!

میرے ماہ و سال کے بیچ میں کوئی لمحہ ایسا گیا نہیں
تیرا نام میں نے لیا نہیں تجھے یاد میں نے کیا نہیں

Mujhe beqarar rehnay de

یونہی فاصلوں کو سجاے رکھ
یونہی انتظار رہنے دے
میرے ذہن و دل کے سکون پر
میرا اختیار رہنے دے

تیری چاہتوں کا جو درد ہے
یہ سب خوشی سے قبول ہے
میری چشم نم کا گمان نہ کر
مجھے اشک بار رہنے دے

تیری بے بسی بجا سہی
میری خوش گمانی بھی غلط نہیں
تجھے ہر قدم پہ خوشی ملے
مجھے سوگوار رہنے دے

تیری گفتگو میں جو درد ہے
وہی درد میرا نصیب ہے
میں بھلا چکا ہوں قرار کو
مجھے بیقرار رہنے دے


Monday, 16 August 2010

12 August 2010

!اس نے کہا آؤ
!اس نے کہا ٹھہرو
مسکاؤ ! کہا اس نے
مر جاؤ ! کہا اس نے

میں آیا
ٹھہرا
مسکایا
اور مر بھی گیا