Thursday, 19 August 2010

Mujhe beqarar rehnay de

یونہی فاصلوں کو سجاے رکھ
یونہی انتظار رہنے دے
میرے ذہن و دل کے سکون پر
میرا اختیار رہنے دے

تیری چاہتوں کا جو درد ہے
یہ سب خوشی سے قبول ہے
میری چشم نم کا گمان نہ کر
مجھے اشک بار رہنے دے

تیری بے بسی بجا سہی
میری خوش گمانی بھی غلط نہیں
تجھے ہر قدم پہ خوشی ملے
مجھے سوگوار رہنے دے

تیری گفتگو میں جو درد ہے
وہی درد میرا نصیب ہے
میں بھلا چکا ہوں قرار کو
مجھے بیقرار رہنے دے


No comments:

Post a Comment