Thursday, 19 August 2010

اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے

خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اجڑ گئیں
تنہائیوں کی دھوپ نے چہرے جلا دیے
لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی
آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے
آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اک بار جو گئے

وہ دن، وہ وقت ، وہ رت ، وہ موسم ، وہ سرکشی
اے گردش حیات ، اے رفتار ماہ و سال
کیا جمع اس زمین پہ نہیں ہوں گے پھر کبھی
جو ہمسفر فراق کی دلدل میں کھو گئے
پتے جو گر کے پیڑ سے رستوں کے ہو گئے

کیا پھر کبھی نہ لوٹ کے آئے گی وہ بہار
کیا پھر کبھی نہ آنکھ میں اترے گی وہ دھنک

لمحے زمان ہجر کے پھیلے کچھ اس طرح
دیگ رواں دشت کی تمثال ہو گئے
اس دشت پر سراب میں بھٹکے ہیں اس قدر
نقش قدم تھے جتنے بھی پا مال ہو گئے
اب تو کہیں پہ ختم ہو رستہ گمان کا
شیشے میں دل کے سارے یقین بال ہو گئے
جس واقعے نے آنکھ سے چھینی تھی میری نیند
اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے


2 comments: