مجھے آج تک نہیں بھولتے تیری چاہتوں کے وہ ذایقے
کہ جو تو ملا تو لگا مجھے سرِ عرش میری دعا گئی
کوئی دشت دشت وجود تھا مگر ابر بن کے برس گیا
کہیں سبز پیڑ کی چھاوں بھی میری تشنگی کو بڑھا گئی
میرے ہاتھ پر ابھی نقش ہیں تیری اُنگلیوں کے نشان تک
تو نے جب چھوا تو لگامجھے کوئی آگ مجھ میں سما گئی
تیرا آندھیوں سا مزاج تھا تو بضد تھامجھکو بجھائے گا
میں چراغ تھی میری روشنی تیرے بام و در کو سجا گئی