Wednesday, 12 September 2012

Wo sitam na dhaaye tu kia karay ......


وہ سِتم نہ ڈھاۓ تو کیا کرے، اُسے کیا خبر کہ وفا ہے کیا!
تُو اُسى کو پیار کرے ہے کیوں، یہ کلیمؔ تُجھ کو ہُوا ہے کیا؟




تُجھے سنگ دِل یہ پَتا ہے کیا کہ دُکھے دِلوں کی صدا ہے کیا!
کبھی چوٹ تُو نے بھی کھائی ہے؟ کبھی تیرا دِل بھی دُکھا ہے کیا؟



یہ جو زخم زخم ہیں دِل، جِگر -- یہ کبھی نہ جائیں گے بے اثر
تُجھے ایک دِن، بُتِ بے خبر، یہ پتا چلے گا خُدا ہے کیا!