Friday, 17 June 2011

Kahan Kho Gaee Meri Zindagi.....

کہاں کھو گئی میری زندگی ، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی خبر
بھلا کیا ملا ہمیں عشق سے ، تو بھی دربدر ، میں بھی دربدر

وہ خزاں کی آمد سے پیشتر،جہاں بات کرتے تھے بیٹھ کر
اسی امر بیل کی چھاؤں میں ، کوئی رہ تکتا ہے رات بھر

نہ ہی دل میں ہیں تیری چاہتیں ، نہ شکایتیں ، نہ عداوتیں
تو یہ کیا کہ آنکھیں چھلک پڑیں ، کبھی ہوگیا جو تیرا ذکر

کہاں ڈھونڈتے ہو میرا پتہ ، میں وہ پھول ہوں جو بکھر چکا
ملیں اجڑے اجڑے سے بام و در، تو یہ سوچنا کہ ہے میرا گھر

تجھے کھو کر آنکھیں بہائیں خوں، تجھے پا کہ بھی نہ ملے سکوں
میری چاہتیں بھی عجب ترین ، میرے سلسلے بھی عجیب تر

میں کہوں کسی سے بھی تو کیا کہوں ، ہوا مجھ پہ طاری 
عجب فسوں
کہ سکوت شب میری زندگی ، کہ غم و الم میرے ہمسفر

جہاں تم تھے مجھ سے خفا ہوئے ، جہاں اپنے رستے جدا ہوئے
میں ملوں گی تم کو وہیں کہیں ،اسی راہ میں اسی موڑ پر

تجھے کیا کہوں میرے ہم نوا ! کہ برا ہوا کہ بھلا ہوا
کبھی زندگی جو ملی مجھے ، تو رہی نہ باقی میری عمر

Kabhi Yun Bhi Hota Hai..

کبھی یوں بھی ہوتا ہے
وہ ہمسفر جو ،
زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت
کو چاہت کے بادل کے سائے تلے
قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھے .
اچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیں
تو دیکھتے ہیں
نجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکا
تعلق کے سارے دیوں کو بجھاتا
دلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہے
اور اسکی اڑی ہوئی ہوئی گرد
لمحوں میں بے شکل کرتی ہے
عمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو !!!!

Thursday, 16 June 2011

Us ne kaha .....



اس نے کہا... آؤ !
اس نے کہا ... ٹھہرو !!
مسکاؤ ... کہا اس نے
مر جاؤ .. کہا اس نے
میں آیا ...
میں ٹھہر گیا .
مسکایا ...
اور مر بھی گیا !!

TUM..

   
......تو ہی بکھرا ہوا ہے 
          
!!میرے کمرے سے میری روح تلک

Thursday, 9 June 2011

Tumhain pata hai ????


تمہیں پتہ ہے ...
وہ گلیاں !!
جن میں دھوپ نہیں آتی.
ان کی اینٹوں پر 
رفتہ رفتہ کائی سی جم جاتی ہے 

Na Pooch .....!!

انشا جی اک بات جو پوچھیں ، تم نے کسی سے عشق کیا ہے ؟
ہم بھی تو سمجھیں ، ہم بھی تو جانیں ، عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے ؟
لوگ ذرا سی بات کے پیچھے عمر کا روگ لگا لیتے ہیں
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ، ہم نے تو ایسا سن رکھا ہے


سانس میں پھانس ، جگر میں کانٹے ، سینہ لال گلال نہ پوچھ !
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ !
کیسے کٹے ، جیسے بھی کٹے، اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگوں پہ بھاری ، مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ، اپنی ہماری چال نہ پوچھ