Friday, 17 June 2011

Kahan Kho Gaee Meri Zindagi.....

کہاں کھو گئی میری زندگی ، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی خبر
بھلا کیا ملا ہمیں عشق سے ، تو بھی دربدر ، میں بھی دربدر

وہ خزاں کی آمد سے پیشتر،جہاں بات کرتے تھے بیٹھ کر
اسی امر بیل کی چھاؤں میں ، کوئی رہ تکتا ہے رات بھر

نہ ہی دل میں ہیں تیری چاہتیں ، نہ شکایتیں ، نہ عداوتیں
تو یہ کیا کہ آنکھیں چھلک پڑیں ، کبھی ہوگیا جو تیرا ذکر

کہاں ڈھونڈتے ہو میرا پتہ ، میں وہ پھول ہوں جو بکھر چکا
ملیں اجڑے اجڑے سے بام و در، تو یہ سوچنا کہ ہے میرا گھر

تجھے کھو کر آنکھیں بہائیں خوں، تجھے پا کہ بھی نہ ملے سکوں
میری چاہتیں بھی عجب ترین ، میرے سلسلے بھی عجیب تر

میں کہوں کسی سے بھی تو کیا کہوں ، ہوا مجھ پہ طاری 
عجب فسوں
کہ سکوت شب میری زندگی ، کہ غم و الم میرے ہمسفر

جہاں تم تھے مجھ سے خفا ہوئے ، جہاں اپنے رستے جدا ہوئے
میں ملوں گی تم کو وہیں کہیں ،اسی راہ میں اسی موڑ پر

تجھے کیا کہوں میرے ہم نوا ! کہ برا ہوا کہ بھلا ہوا
کبھی زندگی جو ملی مجھے ، تو رہی نہ باقی میری عمر

No comments:

Post a Comment