انشا جی اک بات جو پوچھیں ، تم نے کسی سے عشق کیا ہے ؟
ہم بھی تو سمجھیں ، ہم بھی تو جانیں ، عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے ؟
لوگ ذرا سی بات کے پیچھے عمر کا روگ لگا لیتے ہیں
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ، ہم نے تو ایسا سن رکھا ہے
سانس میں پھانس ، جگر میں کانٹے ، سینہ لال گلال نہ پوچھ !
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ !
کیسے کٹے ، جیسے بھی کٹے، اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگوں پہ بھاری ، مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ، اپنی ہماری چال نہ پوچھ
No comments:
Post a Comment