کہاں کھو گئی میری زندگی ، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی خبر
بھلا کیا ملا ہمیں عشق سے ، تو بھی دربدر ، میں بھی دربدر
وہ خزاں کی آمد سے پیشتر،جہاں بات کرتے تھے بیٹھ کر
اسی امر بیل کی چھاؤں میں ، کوئی رہ تکتا ہے رات بھر
نہ ہی دل میں ہیں تیری چاہتیں ، نہ شکایتیں ، نہ عداوتیں
تو یہ کیا کہ آنکھیں چھلک پڑیں ، کبھی ہوگیا جو تیرا ذکر
کہاں ڈھونڈتے ہو میرا پتہ ، میں وہ پھول ہوں جو بکھر چکا
ملیں اجڑے اجڑے سے بام و در، تو یہ سوچنا کہ ہے میرا گھر
تجھے کھو کر آنکھیں بہائیں خوں، تجھے پا کہ بھی نہ ملے سکوں
میری چاہتیں بھی عجب ترین ، میرے سلسلے بھی عجیب تر
میں کہوں کسی سے بھی تو کیا کہوں ، ہوا مجھ پہ طاری
عجب فسوں
کہ سکوت شب میری زندگی ، کہ غم و الم میرے ہمسفر
جہاں تم تھے مجھ سے خفا ہوئے ، جہاں اپنے رستے جدا ہوئے
میں ملوں گی تم کو وہیں کہیں ،اسی راہ میں اسی موڑ پر
تجھے کیا کہوں میرے ہم نوا ! کہ برا ہوا کہ بھلا ہوا
کبھی زندگی جو ملی مجھے ، تو رہی نہ باقی میری عمر