Wednesday, 24 August 2011

Saajan .....

رنج دے کر ملال کرتے ہو
تم بھی ساجن کمال کرتے ہو

دیکھ کر پوچھ لیا حال میرا
چلو کچھ تو خیال کرتے ہو

شہر دل میں اداسیاں کیسی
یہ بھی مجھ سے سوال کرتے ہو

مرنا چاہیں تو مر نہیں سکتے
تم بھی جینا محال کرتے ہو

اب کس کی مثال دوں تم کو
ہر ستم بے مثال کرتے ہو



Friday, 17 June 2011

Kahan Kho Gaee Meri Zindagi.....

کہاں کھو گئی میری زندگی ، نہ کوئی پتہ، نہ کوئی خبر
بھلا کیا ملا ہمیں عشق سے ، تو بھی دربدر ، میں بھی دربدر

وہ خزاں کی آمد سے پیشتر،جہاں بات کرتے تھے بیٹھ کر
اسی امر بیل کی چھاؤں میں ، کوئی رہ تکتا ہے رات بھر

نہ ہی دل میں ہیں تیری چاہتیں ، نہ شکایتیں ، نہ عداوتیں
تو یہ کیا کہ آنکھیں چھلک پڑیں ، کبھی ہوگیا جو تیرا ذکر

کہاں ڈھونڈتے ہو میرا پتہ ، میں وہ پھول ہوں جو بکھر چکا
ملیں اجڑے اجڑے سے بام و در، تو یہ سوچنا کہ ہے میرا گھر

تجھے کھو کر آنکھیں بہائیں خوں، تجھے پا کہ بھی نہ ملے سکوں
میری چاہتیں بھی عجب ترین ، میرے سلسلے بھی عجیب تر

میں کہوں کسی سے بھی تو کیا کہوں ، ہوا مجھ پہ طاری 
عجب فسوں
کہ سکوت شب میری زندگی ، کہ غم و الم میرے ہمسفر

جہاں تم تھے مجھ سے خفا ہوئے ، جہاں اپنے رستے جدا ہوئے
میں ملوں گی تم کو وہیں کہیں ،اسی راہ میں اسی موڑ پر

تجھے کیا کہوں میرے ہم نوا ! کہ برا ہوا کہ بھلا ہوا
کبھی زندگی جو ملی مجھے ، تو رہی نہ باقی میری عمر

Kabhi Yun Bhi Hota Hai..

کبھی یوں بھی ہوتا ہے
وہ ہمسفر جو ،
زمانوں پہ پھیلی ہوئی اک مسافت
کو چاہت کے بادل کے سائے تلے
قدم درقدم کاٹتے چلے جا رہے تھے .
اچانک کسی اجنبی موڑ پر ایک لمحے کو رکتے ہیں
تو دیکھتے ہیں
نجانے کدھر سے ہوائے جدائی کا اک تیز جھونکا
تعلق کے سارے دیوں کو بجھاتا
دلوں میں ِگلوں کی فصیلیں اٹھاتا ، بڑھا آرہا ہے
اور اسکی اڑی ہوئی ہوئی گرد
لمحوں میں بے شکل کرتی ہے
عمروں پہ پھیلے ہوئے فاصلوں کو !!!!

Thursday, 16 June 2011

Us ne kaha .....



اس نے کہا... آؤ !
اس نے کہا ... ٹھہرو !!
مسکاؤ ... کہا اس نے
مر جاؤ .. کہا اس نے
میں آیا ...
میں ٹھہر گیا .
مسکایا ...
اور مر بھی گیا !!

TUM..

   
......تو ہی بکھرا ہوا ہے 
          
!!میرے کمرے سے میری روح تلک

Thursday, 9 June 2011

Tumhain pata hai ????


تمہیں پتہ ہے ...
وہ گلیاں !!
جن میں دھوپ نہیں آتی.
ان کی اینٹوں پر 
رفتہ رفتہ کائی سی جم جاتی ہے 

Na Pooch .....!!

انشا جی اک بات جو پوچھیں ، تم نے کسی سے عشق کیا ہے ؟
ہم بھی تو سمجھیں ، ہم بھی تو جانیں ، عشق میں ایسا کیا ہوتا ہے ؟
لوگ ذرا سی بات کے پیچھے عمر کا روگ لگا لیتے ہیں
مفت میں جان گنوا لیتے ہیں ، ہم نے تو ایسا سن رکھا ہے


سانس میں پھانس ، جگر میں کانٹے ، سینہ لال گلال نہ پوچھ !
اتنے دنوں کے بعد تو پیارے بیماروں کا حال نہ پوچھ !
کیسے کٹے ، جیسے بھی کٹے، اب اور بڑھے گا ملال نہ پوچھ
قرنوں اور جگوں پہ بھاری ، مہجوری کے سال نہ پوچھ
جن تاروں کی چھاؤں میں ہم نے دیکھے تھے وہ سکھ کے خواب
کیسے ان تاروں نے بگاڑی ، اپنی ہماری چال نہ پوچھ

Tuesday, 5 April 2011

Koi Mosam tu aesa ho ....

کوئی موسم تو ایسا ہو
کہ جب بچھڑے ہوؤں کی یاد کے جگنو
چمک کھو دیں ۔۔۔
کسی کے ہجر میں رونے سے پہلے ہی
میری آنکھیں ۔۔۔ کبھی سو دیں ۔۔۔
کوئی موسم تو ایسا ہو کہ جب سب پھول
الفت کے
کسی اَنمٹ محبّت کے
میرے دل میں کھلیں پر ان میں وہ خوشبو نہ ہو باقی
وہ خوشبو ، جو تمہارے قُرب میں
مِحسوس ہوتی تھی

کوئی موسم تو ایسا ہو
کہ دل کے زخم بھر جایں
اگر ایسا نہیں ہوتا
تو پھر کتنا ہی اچھا ہو کہ
ساری خواہشیں دل کی
وہ سارے خواب اور ارماں
یونہی گھُٹ گھُٹ کے مر جایں
مجھے آزاد کر جایں ۔۔۔

Wednesday, 23 March 2011

Bahut dinno se ...!

بہت دنوں سے
سراب لمحوں کی وحشتوں میں
اتر رہی ہوں
یہ سوچتی ہوں
یہ کیا ہوا ہے ؟
ستم رسیدہ گمان کی چوکھٹ پہ کوئی جگنو
نہ کوئی تارا
طویل راستوں کی دھول دیکھو
مہیب شاموں کا رتجگا ہے
مقدروں کا معاملہ بھی عجیب تر ہے
اے شام ہجراں
کبھی ملو تو
یہ سوچ لینا ، میں جسم و جان کے
شکستہ رشتوں میں بٹ چکی ہوں
بہت دنوں سے ہتھیلیوں پہ اگی
لکیروں کے جنگلوں میں
بھٹک رہی ہوں

Sunday, 13 March 2011

Tum se kuch nahi kehna ...

ہم نے سوچ رکھا ہے
...تم سے کچھ نہیں کہنا
چاہے دل کی ہر خواہش زندگی کی آنکھوں سے
اشک بن کے بہ جائے
چاہے اب مکینوں پر گھر کی ساری دیواریں
چھت سمیت گر جائیں
اور بے مقدر ہم
اس بدن کے ملبے میں خود ہی کیوں نہ دب جائیں
...تم سے کچھ نہیں کہنا

کیسی نیند تھی اپنی
کیسے خواب تھے اپنے
اور اب گلابوں پر نیند والی آنکھوں پر
نرم خو سے خوابوں پر
کیوں عذاب ٹوٹے ہیں
....تم سے کچھ نہیں کہنا

گھر گئے ہیں راتوں میں
بے لباس باتوں میں
اسطرح کی راتوں میں
کب چراغ جلتے ہیں ، کب عذاب ٹلتے ہیں
اب تو ان عذابوں سے
بچ کے بھی نکلنے کا راستہ نہیں جاناں
جسطرح تمہیں سچ کے
لازوال لمحوں سے واسطہ نہیں جاناں
!!ہم نے سوچ رکھا ہے تم سے کچھ نہیں کہنا

Janan .... !!



میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں
جیسے مہتاب کو بے انت سمندر چاہے
جیسے سورج کی کرن سیپ کے دل میں اترے
جیسے خوشبو کو ہوا رنگ سے ہٹ کر چاہے

جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے
جیسے غنچے کھلے موسم سے حنا مانگتے ہیں
جیسے خوابوں میں خیالوں کی کمان ٹوٹتی ہے
جیسے بارش کی دعا آبلہ پا مانگتے ہیں

میرا ہر خواب میرے سچ کی گواہی دے گا
وسعت دید نے تجھ سے تیری خواہش کی ہے
میری سوچوں میں کبھی دیکھ سراپا اپنا
میں نے دنیا سے الگ تیری پرستش کی ہے

تجھ کو احساس ہی کب ہے کہ کسی درد کا داغ
آنکھ سے دل میں اتر جائے تو کیا ہوتا ہے
تو کہ بے خبر طبیعت ہے تجھے کیا معلوم
موسم ہجر ٹھہر جائے تو کیا ہوتا ہے

تو نے اس موڑ پہ توڑا ہے تعلق کا جہاں
دیکھ سکتا ہی نہیں کوئی پلٹ کر جاناں
اب یہ عالم ہے کہ آنکھیں جو کھلیں گی اپنی
یاد آئے گا تیری دید کا منظر جاناں

مجھ سے مانگے گا تیرے عہد محبت کا حساب
تیرے ہجراں کا دہکتا ہوا محشر جاناں
یوں میرے دل کے برابر تیرا غم آیا ہے
جیسے شیشے کے مقابل کوئی پتھر جاناں

میں نے اس طور سے چاہا تجھے اکثر جاناں

Yaad..

میرے ماہ و سال کے بیچ میں کوئی لمحہ ایسا گیا نہیں
تیرا نام میں نے لیا نہیں ، تجھے یاد میں نے کیا نہیں

Mere Humsafar ...

میرے ہمسفر کسی روز تو
میرے پاس آ ، میرے رو برو
کسی روز سن میری گفتگو
میری چاہتوں میں بسے ہوئے
میرے آنسوؤں سے بھرے ہوئے
میری شب کے لمحے شمار کر
میری زندگی نہ عذاب کر

مجھے لے کے تو کہیں دور چل
ذرا ہاتھ میرا تھام کر
میرے ہمسفر کسی روز تو
میرے پاس آ ، میرے روبرو

میری خواہشوں کو امید دے
میری زندگی کو نوید دے

Wednesday, 2 February 2011

Abhi wo dard baqi hai !!

ابھی وہ درد باقی ہے
اگرچہ وقت مرہم ہے
مگر کچھ وقت لگتا ہے
کسی کو بھول جانے میں
دوبارہ دل بسانے میں
ابھی کچھ وقت لگنا ہے
ابھی وہ درد باقی ہے
میں کیسے نئی الفت میں
یہ اپنی ذات گم کر لوں
کہ میرے جسم و وجدان میں
ابھی وہ فرد باقی ہے
ابھی اس شخص کی مجھ پر
نگاہ سرد باقی ہے
ابھی تو عشق راہوں کی
یہ مجھ پہ گرد باقی ہے
ابھی وہ درد باقی ہے

Humain maloom hi kab tha ...

بہت معصوم تھے ہم بھی
ہمیں اب یاد آتا ہے
بہت معصوم تھے ہم بھی
کہ ہم اک اجنبی کو عمر کی تاریک راہوں میں
سہارا مان بیٹھے تھے
کہ اس کے چاند چہرے کو
ہم اپنے بخت کا روشن ستارہ مان بیٹھے تھے
ہمیں معلوم ہی کب تھا
کہ دشت زندگانی میں سہارے چھوٹ جاتے ہیں
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے
نظر جن پر ٹھہرتی ہے
وہ تارے ٹوٹ جاتے ہیں
....بہت معصوم تھے ہم بھی


Friday, 7 January 2011

Faslay..!!

خواب اور خواہش میں
.نیند بھر کی دوری ہے
وصل اور جدائی میں
.آنکھ بھر کا وقفہ ہے
ہجر کے اندھیروں میں
.چاند بھر تمنا ہے
ذھن اور دل میں بھی
.سوچ بھر جدائی ہے
..پھر بھی ایسا ہوتا ہے
فاصلے مٹانے میں
عمر بیت جاتی ہے
..فاصلے نہیں مٹتے


Intazaar

ہوا کی خنکیوں میں اب بھی تیری نرم باتیں
آہٹوں کا جال بنتی ہیں
سماعت اب بھی تیری ہنسی کا شور سنتی ہے
خیال اب بھی تمہاری انگلیوں سے
میرے دل کے آنسو پونچھتا ہے
!!نگاہیں
زندگی کے کینوس پر جا بجا
تیری رفاقت کی ضرورت پینٹ کرتی ہے
محبت کی سلگتی رہ گزر کے کنارے پر
..کوئی
اب بھی شدت سے تیرا منتظر ہے


Mousam

مجھے کیوں عزیز تر ہے یہ دھواں دھواں سا موسم
یہ ہوائیں شام ہجراں مجھے راس ہیں تو کیوں ہیں ؟
میں اجڑ کے بھی ہوں تیری ، تو بچھڑ کے بھی ہے میرا
یہ یقین ہے تو کیوں ہے ، یہ قیاس ہیں تو کیوں ہیں ؟