کڑے ہیں ہجر کے لمحات اس سے کہہ دینا
بکھر رہی ہے میری ذات اس سے کہہ دینا
ہوا موسم غم اس کے شہر جائے تو
میرے دکھوں کی کوئی بات اس سے کہہ دینا
یہ وحشتیں ، یہ اداسی ، یہ رتجگوں کا عذاب
اسی کی ہیں یہ عنایات اس سے کہہ دینا
بہت طویل بہت کرب ناک ہوتی ہے
جدائیوں کی ہر اک رات اس سے کہہ دینا
وہ دل کی بازی جہاں مجھ سے جیتنا چاہے
میں مان لوں گی وہیں مات اس سے کہہ دینا
وفا کی راہ میں میں آج بھی اکیلی ہوں
کوئی نہیں ہے میرے ساتھ اس سے کہہ دینا