اے وعدہ فراموش رہی تجھ کو جفا یاد
یہ بھول بھی کیا بھول ہے ، یہ یاد ہے کیا یاد
وہ سنتے ہیں کب دل سے میری رام کہانی
فرماتے ہیں کچھ اور بھی ہے اس کے سوا یاد ؟
تم بھولتے ہو آج کی بات آج ہی اکثر
مشکل ہے اگر وعدہ فردا نہ رہا یاد
معشوق سے اے داغ ! تغافل کا گلہ کیا
کون یاد کرے تجھ کو ؟ کرے اس کی بلا یاد