جو جسم کا ایندھن تھا گلنار کیا ہم نے
وہ زہر کہ امرت تھا جی بھر کے پیا ہم نے
سو زخم ابھر آئے جب دل کو سیا ہم نے
کیا کیا نہ محبت کی، کیا کیا نہ جیا ہم نے
لو کوچ کیا گھر سے لو جوگ لیا ہم نے
جو کچھ تھا دیا ہم نے اور دل سے کہا ہم نے
رکنا نہیں درویشا
اے عشق جنوں پیشہ
اے عشق جنوں پیشہ