تمہیں معلوم ہے ہم نے
کسی کے ہجر میں یہ زندگی کیسے گزاری ہے
ہر اک خوشبو کی آہٹ پر
گمان اسکا گزرتا ہے
ہر اک ساعت پہ دل آنکھوں میں آ کر بیٹھ جاتا ہے
کئی پہلو بدلتی خواہشیں
ہاتھوں کو پھیلائے
دعائیں مانگتی اور ہانپتی دل سے گزرتی ہیں
مگر جو ہجر لاحق ہے
وہ جسم و جان کی دیواریں گراتا ہے
امید و بیم کی آنکھوں سے بینائی کے سارے منظروں کو
خاک کرتا اور مٹاتا ہے
سو ہم بھی خاک ہیں
اور خاک کی قسمت میں لکھا ہے
بے امان رہنا
کسی کے ہجر میں یہ زندگی کیسے گزاری ہے
ہر اک خوشبو کی آہٹ پر
گمان اسکا گزرتا ہے
ہر اک ساعت پہ دل آنکھوں میں آ کر بیٹھ جاتا ہے
کئی پہلو بدلتی خواہشیں
ہاتھوں کو پھیلائے
دعائیں مانگتی اور ہانپتی دل سے گزرتی ہیں
مگر جو ہجر لاحق ہے
وہ جسم و جان کی دیواریں گراتا ہے
امید و بیم کی آنکھوں سے بینائی کے سارے منظروں کو
خاک کرتا اور مٹاتا ہے
سو ہم بھی خاک ہیں
اور خاک کی قسمت میں لکھا ہے
بے امان رہنا