Monday, 22 November 2010

Tumhain maloom hai ????

تمہیں معلوم ہے ہم نے
کسی کے ہجر میں یہ زندگی کیسے گزاری ہے
ہر اک خوشبو کی آہٹ پر
گمان اسکا گزرتا ہے
ہر اک ساعت پہ دل آنکھوں میں آ کر بیٹھ جاتا ہے
کئی پہلو بدلتی خواہشیں
ہاتھوں کو پھیلائے
دعائیں مانگتی اور ہانپتی دل سے گزرتی ہیں
مگر جو ہجر لاحق ہے
وہ جسم و جان کی دیواریں گراتا ہے
امید و بیم کی آنکھوں سے بینائی کے سارے منظروں کو
خاک کرتا اور مٹاتا ہے
سو ہم بھی خاک ہیں
اور خاک کی قسمت میں لکھا ہے
بے امان رہنا


Thursday, 28 October 2010

Yea Thaka Thaka Sa Chand ...!!

 یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
یہ تو خواب ہے کسی آنکھ کا
جسے جاگنے کی سزا ملی
یہ جو چاند ہے یہ عذاب ہے
وہ عذاب
جس نے ملا دیا ہے گلاب لمحوں کو خاک میں
یہ جو چاند ہے یہ جواب ہے
کسی اس طرح کے سوال کا
کہ جو آج تک نہ اٹھا کبھی کسی ذھن میں
یہ جو چاند ہے
یہ تو باب ہے کسی درد کا
کسی ہجر کا کسی وصل کا
کسی زرد زرد سی فصل کا
یہ تھکا تھکا سا جو چاند ہے
کبھی بن پڑے تو یہ اس سے پوچھ کے دیکھنا
اسے گہری گہری سی نیند سے
بھلا کس نے آ کے جگا دیا ؟
اسے روگ کس نے لگا دیا


Wednesday, 20 October 2010

Magar yea zakham yea marham.....

تمھارے نام ، تمھارے نشان سے بے سروکار
تمہاری یاد کے موسم گذرتے جاتے ہیں
بس ایک منظرِ بے ہجر و وصل ہے جس میں
ہم اپنے آپ ہی کچھ رنگ بھرتے جاتے ہیں


نہ وہ نشاطِ تصور کہ لو تم آ ہی گئے
نہ زخم دل کی ہے سوزش کوئی جو سہنی ہو
نہ کوئی وعدہ و پیمان کی شام ہے نہ سحر
نہ شوق کی ہے کوئی داستان جو کہنی ہو


اتار دے جو کنارے پہ ہم کو کشتی وہم
تو گرد و پیچ کو گرداب ہی سمجتھے ہیں
تمھارے رنگ مہکتے ہیں خواب میں جب بھی
تو خواب میں بھی انھیں خواب ہی سمجتھے ہیں


نہ کوئی زخم نہ مرہم کہ زندگی اپنی
گزر رہی ہے ہر احساس کو گنوانے میں
مگر یہ زخم ، یہ مرہم بھی کم نہیں شاید
کہ ہم ہیں ایک زمین پر اور اک زمانے میں


Libaas !

تجھ سے نہیں رہا ہے کوئی نامہ و پیام
عرصہ گزر گیا ہے کہ بے التماس ہوں

تجھ کو یقین آئے نہ آئے ، یہ اور بات
میں تجھ سے دور رہ کہ بھی تیرے ہی پاس ہوں

ممکن کہاں ہے تجھ سے جدائی متاعِ جاں
تو ہے میرا لباس ، میں تیرا لباس ہوں


Saturday, 16 October 2010

Kahani Humari Haqeeqat Na Hoti .... !!

.....ہمیں کاش تم سے محبت نہ ہوتی 


Believe me

When I said I needed you
You said you would always stay
It wasn't me who changed but you
And now you've gone away

Don't you see
That now you've gone
And I'm left here on my own
That I have to follow you
And beg you to come home?

You don't have to say you love me
Just be close at hand
You don't have to stay forever
I will understand
Believe me, believe me
I can't help but love you
But believe me
I'll never tie you down

Left alone with just a memory
Life seems dead and so unreal
All that's left is loneliness
There's nothing left to feel

You don't have to say you love me
Just be close at hand
You don't have to stay forever
I will understand
Believe me, believe me

Thursday, 30 September 2010

Us se milna udas kar de ga ....

اپنی تنہائیوں سے پوچھا ہے
شب ہجراں سے بات کر لی ہے
میرے اندر کی سہمی خاموشی
میرے باہر کا ہنستا چہرہ بھی
رات کے سنسناتے لمحے بھی
دن کا ڈستا ہوا اجالا بھی
ضبط کا ٹوٹتا یہ بندھن بھی
صبر کا چھوٹتا یہ دامن بھی
اس کی یادیں بھی کچھ اشاروں میں
مجھ کو مجبور کر رہے ہیں سب
آؤ اس کے پاس چلتے ہیں
اس کو کہتے ہیں کچھ دوا کر دے
اپنی فطرت کو چھوڑ کر اک پل
کوئی وعدہ تو وہ وفا کر دے
ان کی باتوں سے کچھ نہیں ہوگا
آخری فیصلہ تو دل کا ہے
دل یہ کہتا ہے.... اس سے ملنے سے
اپنی تنہائیاں ہی اچھی ہیں
اب اکیلے میں لگ گیا ہے دل
اس سے ملنے ہمیں نہیں جانا
اس کی باتیں اداس کر دیں گی


Saturday, 25 September 2010

us more se shuru karen

......ہر شے جہاں حسین تھی ، ہم تم تھے اجنبی 

Monday, 30 August 2010

?

کیا محبت کے وعدے
کیا وفا کے ارادے
ریت کی ہیں دیواریں
جو بھی چاہے گرا دے

Saturday, 21 August 2010

Kia Tamasha Ho ????

وہ بلائیں تو کیا تماشا ہو
ہم نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

تیری صورت جو اتفاق سے ہم
بھول جائیں تو کیا تماشا ہو

یہ کناروں سے کھیلنے والے
ڈوب جائیں تو کیا تماشا ہو

بندہ پرور جو ہم پہ گزری ہے
ہم بتائیں تو کیا تماشا ہو

آج بھی ہم تیری وفاؤں پر
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آیئں تو کیا تماشا ہو


Thursday, 19 August 2010

اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے

خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اجڑ گئیں
تنہائیوں کی دھوپ نے چہرے جلا دیے
لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی
آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے
آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اک بار جو گئے

وہ دن، وہ وقت ، وہ رت ، وہ موسم ، وہ سرکشی
اے گردش حیات ، اے رفتار ماہ و سال
کیا جمع اس زمین پہ نہیں ہوں گے پھر کبھی
جو ہمسفر فراق کی دلدل میں کھو گئے
پتے جو گر کے پیڑ سے رستوں کے ہو گئے

کیا پھر کبھی نہ لوٹ کے آئے گی وہ بہار
کیا پھر کبھی نہ آنکھ میں اترے گی وہ دھنک

لمحے زمان ہجر کے پھیلے کچھ اس طرح
دیگ رواں دشت کی تمثال ہو گئے
اس دشت پر سراب میں بھٹکے ہیں اس قدر
نقش قدم تھے جتنے بھی پا مال ہو گئے
اب تو کہیں پہ ختم ہو رستہ گمان کا
شیشے میں دل کے سارے یقین بال ہو گئے
جس واقعے نے آنکھ سے چھینی تھی میری نیند
اس واقعے کو اب تو کئی سال ہو گئے


Ay Ajnabi .......... !!

میرے ماہ و سال کے بیچ میں کوئی لمحہ ایسا گیا نہیں
تیرا نام میں نے لیا نہیں تجھے یاد میں نے کیا نہیں

Mujhe beqarar rehnay de

یونہی فاصلوں کو سجاے رکھ
یونہی انتظار رہنے دے
میرے ذہن و دل کے سکون پر
میرا اختیار رہنے دے

تیری چاہتوں کا جو درد ہے
یہ سب خوشی سے قبول ہے
میری چشم نم کا گمان نہ کر
مجھے اشک بار رہنے دے

تیری بے بسی بجا سہی
میری خوش گمانی بھی غلط نہیں
تجھے ہر قدم پہ خوشی ملے
مجھے سوگوار رہنے دے

تیری گفتگو میں جو درد ہے
وہی درد میرا نصیب ہے
میں بھلا چکا ہوں قرار کو
مجھے بیقرار رہنے دے


Monday, 16 August 2010

12 August 2010

!اس نے کہا آؤ
!اس نے کہا ٹھہرو
مسکاؤ ! کہا اس نے
مر جاؤ ! کہا اس نے

میں آیا
ٹھہرا
مسکایا
اور مر بھی گیا


Tuesday, 20 July 2010

Mein wapis laut jati hon ...

میں واپس لوٹ جاتی ہوں
!مگر پھر اے میرے ہمدم
مجھے اتنا تو بتلا دو
کہ واپس کس طرف جاؤں؟
کہاں سے ساتھ لائے تھے؟
مجھے اتنا تو سمجھا دو
اگر ایسا نہیں ممکن
تو مجھ کو اسطرح توڑو
کہ میں یکسر بکھر جاؤں
بھٹکنے سے تو بہتر ہے
تمھارے پاس مر جاؤں


Saturday, 3 July 2010

Is Se Pehlay Keh ....!!

اس سے پہلے کہ دشت امکاں میں 
وصل جاں کی آرزو نہ رہے 
 اس سے پہلے کہ بار غم سے کہیں 
تجھ کو پانے کی جستجو نہ رہے 
اس سے پہلے کہ دشت خواہش میں 
فرش افسردگی بچھے سر راہ 
لوٹ آؤ کہ منتظر ہے نگاہ 
اس سے پہلے کہ لوح قسمت پر 
باب الفت تمام ہو جائے 
اس سے پہلے کہ شام ہو جائے 

Kuch Barg e Zard Hi Reh Gaey ....

!!میرے بےخبر
میرے روز و شب کے نصیب میں
تیرے بعد درد ہی رہ گئے
میری چاہتوں کی امین جھیل کے پانیوں پہ
کنول کا ایک بھی پھول کب سے کھلا نہیں
کسی راج ہنس نے
چاہتوں کی کوئی کہانی رقم نہ کی
کسی دور دیس سے پنچھیوں کا
محبتوں بھرا قافلہ نہ اتر سکا
کئی ابر لمحے گزر گئے
میری پیاس پیاس ہی رہ گئی
کسی اڑتے پنچھی کے گیت میں
تیری واپسی کی نوید ہو
میری آس آس ہی رہ گئی
تیری قربتوں کی تمازتیں میں نہ چھو سکی
میرے ہاتھ سرد ہی رہ گئے
چلی ایسی ہجر کی آندھیاں
میری شاخ جان سے
تمھارے لمس کے پھول
سارے ہی جھڑ گئے
کئی موسموں سے یہ حال ہے
میری شاخ جاں نہ ہری ہوئی
اور پھول چننے کی چاہ میں
میرے ہاتھ میں تیری یاد کے
کچھ برگ زرد ہی رہ گئے


Tuesday, 15 June 2010

Koi Roshni Mera Khuwab Kar !!

تو جو کب سے دل میں ہے جا گزیں
میری دھڑکنوں کا حساب کر
تو جو کب سے بیٹھا ہے آنکھ میں
کوئی روشنی میرا خواب کر

بڑی بے اماں ہے زندگی
اسے بن کے کوئی پناہ مل
کوئی چاند رکھ میری شام پر
میری شب کو مہکا گلاب کر

کوئی بد گمان سا وقت ہے
کوئی بد مزاج سی دھوپ ہے
کسی سایہ دار سے لفظ کو
میرے جلتے دل کا حجاب کر


Monday, 7 June 2010

Main Yeh Soch Kar



میں یہ سوچ کر اسکے در سے اٹھا تھا
کہ وہ روک لے گی منا لے گی مجھ کو

ہواؤں میں لہراتا آتا تھا دامن
کہ دامن پکڑ کر بٹھا لے گی مجھ کو

قدم ایسے انداز سے اٹھ رہے تھے
کہ آواز دے کے بلا لے گی مجھ کو

مگر اس نے روکا ، نہ اس نے بلایا
نہ دامن ہی پکڑا ، نہ مجھ کو بٹھایا

نہ آواز ہی دی ، نہ واپس بلایا
میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہی آیا

یہاں تک کے اس سے جدا ہو گیا میں

Sunday, 2 May 2010

bewafa

اگر تم آئینہ دیکھو

تو اپنے آپ سے نظریں چرا لینا
کہ اکثر بیوفا لوگوں کو
جب وہ آئینہ دیکھیں
تو آنکھیں چور لگتی ہیں


Friday, 19 February 2010

Main ne theek kia na..?

میں نے ٹھیک کیا ناں...؟؟؟؟
کہتے ہیں کہ جب گھر میں آگ بھڑک اٹھے
جسکو بجھانا مشکل ہو تو ایک ہی راستہ بچتا ہے
جو بچے اسی کو بچا لو
میرے دل میں بھی ایسی ہی آگ لگی تھی
میں نے آنکھ میں تیرے بجھتے خواب سمیٹے
تیری یاد کے ٹکڑے چن کر دھیان میں رکھے
اور اس آگ میں دل کو جلتا چھوڑ کر نکل آیا ہوں
میں نے ٹھیک کیا ناں ؟؟؟؟


Thursday, 4 February 2010

کہاں ہو تم . چلے آؤ ، محبت کا تقاضا ہے



تمہاری بے رخی اک دن ہماری جان لے لے گی
قسم تم کو ، ذرا سوچو . کہ دستور وفا کیا ہے